سینیٹ کی انسانی حقوق کمیٹی کی چیئرپرسن سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری نے آئی جی خیبرپختونخوا سے صحافی کی درخواست رپورٹ طلب

shahidakhtarhazara
4 Min Read

اسلام آباد (بیورو رپورٹ)سینیٹ کی فنکشنل کمیٹی برائے انسانی حقوق کی چیئرپرسن سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری نے شاہد اختر اعوان چیف ایڈیٹر ہم گواہ کی جانب سے ضلعی پولیس ہری پور پر ہراسانی، مبینہ تشدد اور غیر قانونی کارروائیوں سے متعلق شکایت کا نوٹس لیتے ہوئے انسپکٹر جنرل (آئی جی) پولیس خیبرپختونخوا سے جامع رپورٹ طلب کر لی ہے۔دستاویزات کے مطابق سینیٹ سیکریٹریٹ کی جانب سے چیئرپرسن فنکشنل کمیٹی برائے انسانی حقوق سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری کی ہدایت پر 10 جولائی 2026 کو مراسلہ U.O. No. F.28(1)/2024-27/C-I جاری کیا گیا، جس میں آئی جی پولیس خیبرپختونخوا کو معاملے کی مکمل رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی گئی۔ مراسلے کی نقول ڈی آئی جی ہزارہ ڈویژن اور دیگر متعلقہ حکام کو بھی ارسال کی گئی ہیں۔شکایت کے مطابق صحافی شاہد اختر اعوان، جو عوامی مفاد میں کرپشن اور بدعنوانی سے متعلق خبریں شائع کرتے رہے ہیں، ان کے خلاف تھانہ سٹی ہری پور میں ایف آئی آر نمبر 665 درج کی گئی، جس میں تعزیراتِ پاکستان کی دفعات 500، 506 اور 25-D شامل کی گئیں۔ درخواست گزار کے مطابق انہیں حراست کے دوران مبینہ تشدد، ذہنی ہراسانی اور نامناسب رویے کا سامنا کرنا پڑا، جبکہ ان کی گاڑی ضمانت کے باوجود 17 اکتوبر 2025 سے پولیس تحویل میں رکھی گئی۔شاہد اختر اعوان کا کہنا ہے کہ انہوں نے اپنی بے گناہی ثابت کرنے، دستیاب شواہد کا جائزہ لینے اور شفاف تحقیقات کے لیے مختلف اوقات میں ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر (DPO) ہری پور، ایس پی انویسٹی گیشن ہری پور اور ڈپٹی انسپکٹر جنرل (DIG) ہزارہ کو تحریری درخواستیں جمع کرائیں، تاہم ان کے بقول ان درخواستوں پر آج تک کوئی مؤثر کارروائی یا باقاعدہ انکوائری نہیں کی گئی، جس کے بعد انہوں نے انصاف کے حصول کے لیے معاملہ سینیٹ کی فنکشنل کمیٹی برائے انسانی حقوق کے سامنے اٹھایا۔سینیٹ سیکریٹریٹ کے مراسلے میں آئی جی خیبرپختونخوا کو ہدایت کی گئی ہے کہ مقدمے کے اندراج کا پس منظر، ایف آئی آر درج ہونے کے حالات، موصولہ شکایات پر کی گئی کارروائی، کارروائی نہ ہونے کی وجوہات اور آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے اٹھائے گئے یا مجوزہ اقدامات پر مشتمل تفصیلی رپورٹ جلد از جلد کمیٹی کو ارسال کی جائے۔ مراسلے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ موصولہ رپورٹ کا جائزہ چیئرپرسن سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری کریں گی، جبکہ اس معاملے کو کمیٹی کے آئندہ اجلاس کے ایجنڈے میں بھی شامل کیا جائے گا۔اس موقع پر شاہد اختر اعوان نے کہا کہ انہیں امید ہے کہ سینیٹ کی انسانی حقوق کمیٹی کے نوٹس کے بعد ان کی بات سنی جائے گی اور حقائق سامنے آئیں گے۔ انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ ان کے خلاف مبینہ طور پر سازش کے تحت جھوٹا مقدمہ درج کرکے انہیں بدنام کرنے اور ان کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر تحقیقات میں ان کے مؤقف کی تصدیق ہوتی ہے تو وہ توقع رکھتے ہیں کہ آئی جی خیبرپختونخوا متعلقہ ذمہ دار اہلکاروں کے خلاف محکمانہ کارروائی کریں گے اور قانون کے مطابق مزید قانونی کارروائی بھی عمل میں لائی جائے گی، تاکہ آئندہ کسی بھی صحافی کو مبینہ طور پر جھوٹے مقدمات یا انتقامی کارروائیوں کا سامنا نہ کرنا پڑے

Share This Article
Leave a Comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *